منگلورو25/ مارچ (ایس او نیوز) کووِڈ پروٹوکول کی پابندی کے سلسلے میں بیداری لانے اور خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی کی جو مہم منگلورو ڈپٹی کمشنر راجیندرا کے ذریعہ چلائی جا رہی ہے، اس پر سابق کارپوریٹر پرتیبھا کُولائی نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی سی نے عوام کے ساتھ انتہائی ناشائستہ اورغیر انسانی رویہ اپنایا ہے۔
اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے پرتیبھا نے کہا کہ " کووِڈ کے تعلق سے گائڈ لائنس پر عمل کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے لئے ایک عام آدمی کے ساتھ غیر شائستگی سے پیش آنا ضروری نہیں ہے۔ ایک پٹرول بنک ملازم کو ماسک نہ پہننے کی وجہ سے بڑے غیر انسانی انداز میں سرکاری گاڑی میں ٹھونسا گیا۔عوام میں ماسک تقسیم کرکے بھی بیداری لائی جاسکتی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے خلاف ورزیاں کرنے والوں پر جرمانہ لگانے میں بھی انصاف سے کام نہیں لیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی دکان والوں پر بھاری جرمانہ لگایا گیا، لیکن بڑے بڑے مالس میں واقع اسٹالس والوں سے معمولی جرمانہ وصول کیا گیا۔"
سابق کارپوریٹر نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ "رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے ایک نجی اسپتال میں جاکر کووڈ ویکسین کا ٹیکہ لگوایا ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ رکن پارلیمان نے سرکاری اسپتال میں ٹیکہ کیوں نہیں لگوایا۔"
پرتیبھا نے مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ:"20 اور 21 مارچ کو سسی ہیتلو میں واقع ایک ندی کا تہوار مناتے ہوئے کووِڈ گائڈ لائنس کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔" اس نے اس تہوار میں سیکڑوں افراد میوزک پر رقص کرنے اور بغیر ماسک اور سماجی فاصلہ کے گھل مل جانے کی ایک ویڈیو کلپ دکھاتے ہوئے پوچھا:" سب سے پہلی بات کہ ندی کا تہوار منانے کی اجازت کیوں دی گئی تھی اور یہ پروگرام ڈپٹی کمشنر کی عوامی مہم سے صرف دو دن قبل منعقد ہوا تھا۔ اس ضمن میں ضلع انتظامیہ نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی تھی۔"
سابق کارپوریٹر پرتیبھا کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راجیندرا نے کہا کہ " ہم عوام میں کووِڈ گائڈ لائنس کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ ہم نے اس مہم کے دوران عام لوگوں میں ماسک تقسیم کرنے کا کام بھی کیا ہے۔ پٹرول بنک کا نوجوان ملازم جس کے خلاف کارروائی کی گئی وہ انتہائی نامناسب انداز میں پیش آ رہا تھا۔ ہم کووِڈ قوانین کی پابندی کرنے والوں کے خلاف آخری علاج کے طور پر ہی کارروائی کرتے ہیں۔"